ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / معیشت کو تیز کرنے کا منصوبہ-مرکزی ملازمین کیلئے خصوصی فیسٹیول اڈوانس اسکیم

معیشت کو تیز کرنے کا منصوبہ-مرکزی ملازمین کیلئے خصوصی فیسٹیول اڈوانس اسکیم

Tue, 13 Oct 2020 11:12:25    S.O. News Service

نئی دہلی،13؍اکتوبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) کورونا کی وجہ سے بری طرح متاثر معیشت کو تیز رفتاری عطا کرنے اور تہوار کے موسم میں صارفین کی طلب میں اضافے پر زور دیتے ہوئے مرکزی حکومت نے پیر کو مرکزی ملازمین کیلئے ہالی ڈے ٹریول ریبٹ (ایل ٹی سی) کیش واؤچر اسکیم، خصوصی فیسٹیول اڈوانس اسکیم اور اضافی 37ہزار کروڑ روپئے کے سرمایہ جاتی اخراجات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپئے کی مانگ بڑھانے میں مدد مل سکے گی -

وزیر خزانہ نرملا سیتارمن اور وزیر مملکت برائے خزانہ انوراگ ٹھاکر نے یہ اعلان یہاں نامہ نگاروں سے گفتگو کے دوران کیا- محترمہ سیتارمن نے کہا کہ کورونا کا معیشت پر بہت برا اثر پڑا ہے - خود کفیل ہندوستان پیکیج کے تحت غریب اور کمزور طبقوں کی مدد کی گئی ہے اور سپلائی کی رکاوٹوں کو ختم کرنے پر زور دیا جارہا ہے - اس کے باوجود، صارفین کی مانگ اب بھی کم ہے - اس کو دھیان میں رکھتے ہوئے، ایسے پیکیج تیار کیے گئے ہیں جس سے نہ صرف جی ڈی پی میں اضافے میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ افراط زر پر بھی اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا-

انہوں نے کہا کہ مرکزی ملازمین کیلئے ایل ٹی سی کیش واؤچر اسکیم شروع کی جارہی ہے، جو31مارچ2021 تک جاری رہے گی- اس کے تحت، سال 2018-21کے چار سالہ بلاک میں دو بار آبائی شہر اور ملک کے کسی دوسرے مقام پر جانے کا فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے - اس کیلئے، ہوائی یا ریل کا کرایہ اہلیت اور گریڈ کے مطابق دیا جائے گا- اس کے ساتھ ہی،10دن کی چھٹیوں کا اَن کیش منٹ بھی دستیاب ہوگا- محترمہ سیتارمن نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے جو ملازمین جو2018-21بلاک کے ایل ٹی سی استعمال نہیں کرسکے ہیں اور اگر وہ اب ایل ٹی سی کیش واؤچر اسکیم کا استعمال کرتے ہیں تو انہیں مکمل چھٹی ان کیش منٹ مل جائے گی- اہلیت کے مطابق کرایہ کی ادائیگی کو تین سلیب میں تقسیم کیا گیا ہے اور اسی کے مطابق ٹیکس فری ٹریول الاؤنس دیا جائے گا-

انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کو استعمال کرنے والے ملازموں کو کرایے کی رقم سے تین گنا اور چھٹی کے ان کیش منٹ کا ایک گنا خرچ کرنا ہوگا- یہ اخراجات12 فیصد یا اس سے زیادہ جی ایس ٹی ٹیکس والی مصنوعات پر کرنے ہوں گے اور اس اخراجات کی جی ایس ٹی رسید بھی جمع کروانی ہوگی-وزیر خزانہ نے کہا کہ مرکزی حکومت اس اسکیم پر5,675کروڑ روپئے خرچ کرے گی- سرکاری بینکوں اور پبلک سیکٹر کے بھی1,900کروڑ روپے خرچ ہونے کی توقع ہے - ایل ٹی سی کیش واؤچر اسکیم کے تحت دی جانے والی ٹیکس چھوٹ کا فائدہ ریاستی حکومتوں کے ملازمین اور نجی شعبے کے ملازمین کو بھی دستیاب ہوگا- مرکزی حکومت اس سلسلے میں رہنما اصول جاری کرے گی-

محترمہ سیتارمن نے کہا کہ مرکزی ملازمین، بینکوں اور پی ایس یو کے ملازمین کے ذریعہ اس اسکیم کے استعمال پر 19ہزار کروڑ روپئے کی مانگ میں اضافہ متوقع ہے - اگر ریاستوں کے ملازمین بھی ٹیکس چھوٹ میں فائدہ استعمال کریں گے، تو اس سے9ہزار کروڑ روپئے کی مانگ میں اضافہ ہونے کا امکان ہے - توقع ہے کہ یہ مطالبہ بڑھ کر 28ہزار کروڑ روپے ہوجائے گا-

وزیر خزانہ نے کہا کہ مرکزی ملازمین کیلئے خصوصی فیسٹیول اڈوانس اسکیم بھی متعارف کروائی جارہی ہے کیونکہ ساتویں پے کمیشن نے فیسٹیول اڈوانس کی فراہمی ختم کردی ہے - اس کے تحت، ہر ملازم کو دس ہزار روپے اڈوانس ملے گا، جس کو زیادہ سے زیادہ10 ماہ میں سود سے پاک ادا کرنا پڑے گا- یہ اڈوانس رقم روپے کارڈ کے ذریعہ دی جائے گی اور کارڈ سے نقد رقم نہیں نکالی جاسکے گی- اس سے صرف خریداری کی جاسکتی ہے - اگلے سال 31 مارچ تک کارڈ کی رقم جتنی استعمال کی جاسکے گی اتنی ہی اڈوانس سمجھا جائے گا- اس رقم کا استعمال ملازمین اپنی خواہش کے مطابق کرسکیں گے اور اس کیلئے کسی جی ایس ٹی رسید کی ضرورت نہیں ہوگی-

اس اسکیم کیلئے مرکز کو چار ہزار کروڑ روپئے خرچ کرنا ہوں گے - ریاستوں کے ذریعہ اس اسکیم کو اپنانے پر لگ بھگ چار ہزار کروڑ کے اضافی اخراجات کا تخمینہ ہے - اس طرح سے 8 ہزار کروڑ کی کل مانگ متوقع ہے -


Share: